| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
نصوص خواہ آیات مبارکہ ہوں یا احادیث مبارکہ ان کی مراد جاننے کے مختلف طریقے ہیں۔
پہلا طریقہ :
جب کوئی لفظ کسی ایک معنی کیلئے بطور حقیقت اور دوسرے معنی کیلئے بطور مجاز استعمال ہوتو حقیقت پر عمل کرنا اولیٰ ہے ۔
مثال :
جب کوئی لڑکی زنا سے پیدا ہوئی ہوتو اس لڑکی سے وہ زانی مرد نکاح نہیں کرسکتا کیونکہ اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:( حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمْ اُمَّہٰتُکُمْ وَبَنٰتُکُمْ )
ترجمہ کنز الایمان:''حرام ہوئیں تم پرتمہاری مائیں اوربیٹیاں۔''[النساء: ۲۳] لہذاوہ لڑکی اس مرد کی حقیقی بیٹی ہے اگرچہ یہ لڑکی مجازا اس کی بیٹی نہیں سمجھی جاتی کیونکہ نکاح کے بغیر پیدا ہوئی ہے لیکن چونکہ وہ اس کے پانی سے پیدا ہوئی ہے لہذا حقیقۃً وہ اس کی بیٹی ہے اور یہاں حقیقت پر عمل کرنا اولی ہے۔
دوسرا طریقہ:
جب کسی لفظ کے معنی میں دو احتمال ہوں اور ان میں سے کسی ایک کی وجہ