Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
60 - 144
افعال حسیہ سے نہی کا حکم :
    جس فعل پر نہی وارد ہوئی ہے مَنْہی عنہ(جس چیز سے منع کیا گیا) اس چیز کا عین ہوتی ہے لہذا منہی عنہ ذاتی طور پر قبیح اور بالکل جائز نہ ہوگی۔
۲۔تصرّفاتِ شرعیّہ :
    وہ افعال جن کی معرفت کا دارومدار شریعت پر موقوف ہو۔
تصرّفات شرعیّہ سے نہی کی مثال :
    یومِ نحر میں روزہ رکھنا، اوقاتِ مکروہہ میں نماز پڑھنا،ایک درہم کی دو درہم کے بدلے بیع کرنا، وغیرہ وغیرہ۔یہ وہ افعال ہیں کہ ان سے ممانعت شریعت مطہرہ پر موقوف ہے۔
تصرفات شرعیہ سے نہی کا حکم :
    منہی عنہ اس چیز کا غیر ہوتی ہے جس پر نہی وارد ہوئی ہے لہذا مَنْہی عنہ میں ذاتی طور پر حسن پایا جاتاہے اور غیر کی وجہ سے وہ قبیح ہوتی ہے اور اس کا مرتکب غیر کی وجہ سے حرام کا مرتکب ہوتاہے اس کی ذات کی وجہ سے نہیں۔جیسے عید کے دن روزہ رکھنا یہ بنفسہ ایک فعل حسن ہے لیکن چونکہ اللہ عزوجل کی ضیافت سے اعراض ہے اس لیے اس میں قبح آگیا۔
Flag Counter