ورنہ نقصان ساقط ہو جائے گا البتہ گناہ باقی رہے گا۔ اسی وجہ سے اگر کسی شخص نے نماز میں تعدیل ارکان کو چھوڑ دیا تو اس کا تدارک اس کی مثل سے کرنا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ بندے کے پاس اس کا کوئی مثل نہیں ہے لہذا یہ ساقط ہو جائے گا، ہاں اگر کسی نے ایام تشریق میں نماز چھوڑ دی تو اس کی قضا ء غیر ایام تشریق میں ہو سکتی ہے لیکن جہرا تکبیرِتشریق نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ محل فوت ہو جانے سے یہ بھی فوت ہو گئی۔
نوٹ :
یاد رہے کہ اداء و قضاء کے باب میں اصل اداء ہے چاہے کامل ہو یا ناقص،اور قضاء کی طرف اسی وقت لوٹیں گے جبکہ اداء ممکن نہ ہو۔