Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
56 - 144
ادائے کامل کی تعریف :
    مامور بہ کو صحیح و مشروع طور پر اور تمام حقوق کے ساتھ بجالانا ادائے کامل کہلاتاہے۔

مثال :

    نماز کو اس کے وقت پر باجماعت ادا کرنا ، باوضوء ہو کر طواف کعبۃ اللہ کرنا، مبیع کو اسی طرح مشتری کے حوالے کرنا جس طرح عقد اسکا تقاضا کرتا ہے۔

حکم :

    جب اس انداز میں ادائیگی ہوجائے تو مامور کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے اسی وجہ سے اگر غاصب مغصوبہ شے اس کے مالک کو بیچ دے، ہبہ کردے ،اس کے پاس رہن کے طور پر رکھوادے یا کسی بھی طریقے سے مالک کے سپرد کردے تو وہ ذمہ داری سے برطرف ہوجائے گا اور غاصب کا یہ کلام کہ: میں نے بیچا، رہن رکھوایا، ہبہ کیا وغیرہ سب لغو قرار پائے گاکیونکہ وہ اس شی کا مالک نہیں۔
ادائے قاصر کی تعریف :
    واجب کو بعینہ لیکن اس کی صفت میں کچھ نقصان کے ساتھ مستحِق کے حوالے کرنا ادائے قاصر کہلاتاہے۔

حکم :

    اگر اس کی مثل کے ساتھ نقصان پورا ہو سکتاہے تو نقصان کو پورا کیا جائے گا
Flag Counter