مامور بہ کو صحیح و مشروع طور پر اور تمام حقوق کے ساتھ بجالانا ادائے کامل کہلاتاہے۔
مثال :
نماز کو اس کے وقت پر باجماعت ادا کرنا ، باوضوء ہو کر طواف کعبۃ اللہ کرنا، مبیع کو اسی طرح مشتری کے حوالے کرنا جس طرح عقد اسکا تقاضا کرتا ہے۔
حکم :
جب اس انداز میں ادائیگی ہوجائے تو مامور کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے اسی وجہ سے اگر غاصب مغصوبہ شے اس کے مالک کو بیچ دے، ہبہ کردے ،اس کے پاس رہن کے طور پر رکھوادے یا کسی بھی طریقے سے مالک کے سپرد کردے تو وہ ذمہ داری سے برطرف ہوجائے گا اور غاصب کا یہ کلام کہ: میں نے بیچا، رہن رکھوایا، ہبہ کیا وغیرہ سب لغو قرار پائے گاکیونکہ وہ اس شی کا مالک نہیں۔