وہ امر جس میں کسی قرینہ یا دلیل سے یہ معلوم نہ ہو کہ اس پر عمل کرنا ضروری ہے یا نہیں امر مطلق کہلاتاہے۔
اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
(وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾ )
ترجمہ کنزالایمان:''اورجب قرآن پڑھاجائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہوکہ تم پررحم ہو۔''[الاعراف: ۲۰۴] احناف کا مختار یہ ہے کہ مطلق امر وجوب کیلئے آتاہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ امر کا ترک معصیت (گناہ)ہے اور جس چیز کے ترک پر گناہ ہو اس کا کرنا واجب ہوتاہے لہذا امر کا موجب وجوب ہے۔