Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
50 - 144
سبق نمبر(11)

(۔۔۔۔۔۔ امر کابیان۔۔۔۔۔۔)

امر کی تعریف :
 امر کا لغوی معنی یہ ہے کہ ''کوئی شخص دوسرے سے کہے افعل یہ کام کر''۔ اورشرع میں
''تَصَرُّفُ اِلْزَامِ الْفِعْلِ عَلَی الْغَیْر''
یعنی دوسرے پر فعل کو لازم کرنے کا تصرف امر کہلاتاہے۔
امر مطلق کی تعریف :
وہ امر جس میں کسی قرینہ یا دلیل سے یہ معلوم نہ ہو کہ اس پر عمل کرنا ضروری ہے یا نہیں امر مطلق کہلاتاہے۔
امر مطلق کی مثال :
    اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
(وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾ )
ترجمہ کنزالایمان:''اورجب قرآن پڑھاجائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہوکہ تم پررحم ہو۔''[الاعراف: ۲۰۴] احناف کا مختار یہ ہے کہ مطلق امر وجوب کیلئے آتاہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ امر کا ترک معصیت (گناہ)ہے اور جس چیز کے ترک پر گناہ ہو اس کا کرنا واجب ہوتاہے لہذا امر کا موجب وجوب ہے۔
Flag Counter