جیسے مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کافر مسلمان کے مال پر قبضہ کرے تو مسلمان کے مال پر کافر کی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے اس لیے کہ اگر مسلمان کا مال اس کی اپنی ہی ملکیت میں رہے اورکفار کی اس میں ملکیت ثابت نہ ہو تو پھر مسلمان کا فقر ثابت نہیں ہوگا،حالانکہ آیت میں مسلمانوں کو ایسی صورت میں فقراء فرمایاگیاہے۔
ایسامعنی جولغوی طور پر حکمِ منصوص علیہ کی علت سمجھا جائے۔
اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
( فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا )
ترجمہ کنزالایمان:''توان سے ہوں نہ کہنااورا نہیں نہ جھڑکنا۔''[الاسراء: ۲۳] لغت کا جاننے والا اس آیت کو سنتے ہیں یہ بات جان لے گا کہ ماں