| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
لفظ(کلام)کوجس معنی کیلئے چلایا گیا ہو تو وہ لفظ اس معنی کے لئے نص کہلاتاہے۔
نص کی مثال :
اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:(فَانکِحُواْ مَا طَابَ لَکُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ)
ترجمہ کنزالایمان: ''تونکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دودواورتین تین اور چارچار۔'' [النساء: ۳] یہاں کلام کو یہ بیان کرنے کے لئے چلایا گیا ہے کہ مرد ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ کتنی شادی کر سکتا ہے۔
نوٹ:
بعض اوقات ہر دلیل سمعی (قرآن ، حدیث اوراجماع )کو بھی نص کہہ دیا جاتا ہے۔ظاہر ونص کا حکم :
ظاہر ونص پر عمل کرنا واجب ہے خواہ یہ عام ہو ں یا خاص لیکن ارادہ غیر کا احتمال باقی رہتا ہے۔ (کیونکہ ان میں تاویل و تخصیص ہو سکتی ہے)
مفسر کی تعریف :
مفسر وہ کلام ہے جس کی مراد متکلم کے بیان سے ایسی ظاہر ہوکہ اس میں تاویل وتخصیص کا احتمال نہ رہے۔