| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
صریح سے کلام کی مراد ثابت ہوجاتی ہے اگر چہ وہ خبر ، صفت یا ندا ہی کیوں نہ ہو اور اس میں نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔
کنایہ کی تعریف :
کنایہ وہ لفظ ہے جس کی مراد پوشیدہ ہو۔
کنایہ کی مثال :
اگر کسی نے اپنی زوجہ سے کہا ''اَنْتِ بَائِنٌ'' یعنی تو جدا ہے تو محض اس کے تکلم سے طلاق واقع نہ ہو گی کیونکہ بائن کے معنی تو معلوم ہیں یعنی'' عورت جدا ہے'' لیکن یہ نہیں معلوم کہ عورت مال سے جدا ہے یا خاندان سے یا شوہر سے۔ اس لئے طلاق کے واقع ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ شوہر طلاق کی نیت کرے یا مذاکرہ طلاق موجود ہو،ورنہ طلاق واقع نہیں ہو گی۔کنایہ کا حکم :
نیت یا دلالتِ حال پائے جانے کے وقت کنایہ کاحکم ثابت ہوتاہے جیسے: ''اَنتِ بَائنٌ'' سے اس وقت طلاق واقع ہو گی جب قائل نیتِ طلاق کرے یا پھر مذاکرہ طلاق ہو۔