صریح وہ لفظ ہے جس کی مراد بالکل واضح ہواس طور پر کہ جب وہ لفظ بولا جائے تو مراد سمجھ میں آجائے ۔
صریح کی مثال :
اگرکسی نے اپنی بیوی سے کہا ''اَنْتِ طَالِقٌ'' تو فورا طلاق واقع ہو جائے گی اگرچہ وہ یہ کہے کہ غلطی سے میرے منہ سے نکل گیا تھا یا میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی کیونکہ لفظ ''طالق ''طلاق دینے میں بالکل صریح ہے اس میں نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
نوٹ:
صریح میں نیت و تاویل کا اعتبار اس لئے نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح تو کوئی بھی شخص کچھ بھی صراحۃ کہہ کر مکر سکتا ہے حتی کہ معاذ اللہ کلمہ کفر تک بک کر یہ کہہ سکتا ہے کہ میری یہ نیت نہیں تھی۔ فتاوی رضویہ جلد ۱۵ ص۱۸۹ پرشفاء شریف کے حوالے سے ہے کہ: