بعض اوقات دلالتِ متکلم کی بناء پر لفظ کی حقیقت کے کل یا بعض افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے ۔یعنی متکلم کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ اسے دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ یہاں اس کے کلام کی کیا مراد ہے۔مثلااگر کوئی مسافرکہے کہ مجھے گوشت لادو تو اس کے کلام کا حقیقی معنی تو یہ ہے کہ کچا گوشت لایاجائے لیکن اس کا مسافر ہونا اس بات پر دلالت کرتاہے کہ یہاں اس کی مراد کچا گوشت نہیں بلکہ پکا ہوا گوشت ہے۔
(۵)۔۔۔۔۔۔محلِ کلام کی دلالت :
بعض اوقات دلالتِ محل کلام کی بناء پر لفظ کی حقیقت کے کل یا بعض افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔یعنی جس کے بارے میں کلام چلایا گیاہو اس پر کلام کے حقیقی معنی صادق ہی نہ آئیں۔مثلا اگرکوئی آزاد عورت کسی مرد سے یہ کہے کہ ''میں نے اپنا آپ تجھے بیچا''تو یہ بیع نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ عورت آزاد ہے لہذا یہاں اس کے کلام کے حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی یعنی'' نکاح ''مراد لیا جائے گا۔اور حقیقی معنی کو اس لئے چھوڑ دیا گیا کہ عورت بیع کا محل ہی نہیں کہ اس پر یہ کلام صادق آئے۔