| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
ہوا کہ یہاں حقیقت کے بعض افراد یعنی چڑیا وغیرہ کے سر کو عرف کی بناء پر چھوڑ دیا گیا ہے اسی لئے اگر حالف نے اس قَسم کے بعد چڑیا کا سر کھالیا تو اس سے نہ قسم ٹوٹے گی اور نہ کفارہ لازم آئے گا۔اسی طرح بعض اوقات لفظ کی حقیقت کے تمام افرادکو چھوڑ دیا جاتا ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔دلالت نفسِ کلام :
بعض اوقات دلالتِ نفس کلام کی بناء پر لفظ کی حقیقت کے کل یا بعض افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے یعنی کلام ہی ایسا ہو کہ ترک حقیقت پر دلالت کرے ۔جیسے اگر کوئی شخص کہے کہ میرا ہر مملوک آزادہے تو اس کلام کی وجہ سے وہی مملوک آزادہوگا جو کلی طور پر اس کی ملکیت میں ہو لہذا مُکاتَب غلام یا وہ غلام کہ جس کا بعض آزاد ہو، آزاد نہیں ہوں گے کیونکہ یہ مکمل طور پر اس کی ملکیت میں نہیں ۔
(۳)۔۔۔۔۔۔سیاق کلام کی دلالت :
بعض اوقات دلالتِ سیاقِ کلام کی بناء پر لفظ کی حقیقت کے کل یا بعض افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے ۔مثلااگر کوئی مسلمان کسی حربی کافر سے کہے کہ'' نیچے اتر اگر تو مرد ہے'' تو سیاقِ کلام اس با ت پر دلالت کرتاہے کہ اسے نیچے اترنے کی اجازت نہیں دی جا رہی بلکہ اسے دھمکی دی جارہی ہے۔
نوٹ :
آگے آنے والے کلام کو سیاقِ کلام اورگزر جانے والے کلام کو سباقِ کلام کہتے ہیں۔مذکورہ مثال میں'' اگر تو مرد ہے '' سیاقِ کلام اور ''نیچے اتر''سباقِ