Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
35 - 144
سبق نمبر(7)

لفظ کے کل یا بعض حقیقی معنی چھوڑ دینے کی صورتیں
جب حقیقت پر عمل مشکل یا ناممکن ہو تو کبھی لفظ کی حقیقت کے کُل افراد چھوڑ دیئے جاتے ہیں اور کبھی بعض، جب کسی لفظ کی حقیقت کے کل افراد چھوڑ دیئے جائیں تو مجاز کی طرف پھرنا ضروری ہوتا ہے لیکن جب کل افراد نہ چھوڑے گئے ہوں بلکہ بعض چھوڑ دیئے گئے ہوں تو اس وقت مجاز کی طرف نہیں پھریں گے بلکہ حقیقت قاصرہ(یعنی حقیقت کے بعض افراد) مراد لیں گے(کیونکہ کلام میں اصل حقیقت ہے)۔

ہم یہاں لفظ کی حقیقت کے کل یا بعض افراد چھوڑ دینے کی کچھ وجوہات اور ان کی صورتیں بیان کرتے ہیں۔
 (۱)۔۔۔۔۔۔دلالتِ عرف :
    بعض اوقات دلالتِ عرف کی بناء پر لفظ کی حقیقت کے کل یا بعض افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔جیسے اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ میں سرنہیں کھاؤں گا تو لفظ ''سر''اپنے مدلول کے تمام افراد کو شامل ہے چاہے گائے بھینس بکری کا سر ہو یاچڑیا کا لیکن عرف میں اس قسم کے جملے سے چڑیا کا سر مراد نہیں لیا جاتا بلکہ گائے بکری وغیرہ کے سر مراد ہوتے ہیں اور یہی حقیقت قاصرہ ہے لہذا معلوم
Flag Counter