Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
27 - 144
سبق نمبر(4)

(۔۔۔۔۔۔ مطلق ومقیدکا بیان۔۔۔۔۔۔)

مطلق کی تعریف :
  وہ اسم جس سے بغیر کسی قید کے مسمیٰ مراد لیا جائے خواہ وہ صفت ہو یا اسم جنس۔
مطلق کی مثال :
  اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
 (الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِئَۃَ جَلْدَۃٍ)
ترجمہ کنزالایمان:''جوعورت بدکار ہواور جو مرد توان میں ہر ایک کو سوکوڑے لگاؤ۔''[النور: ۲] اس آیت مبارکہ میں اللہ عزوجل نے زانی مردو عورت کیلئے فقط ''مئۃ  جلدۃ''یعنی سوکوڑوں کی سزامقرر فرمائی ہے لہذا س مطلق پر بطور حد مزید کسی قسم کی زیادتی یعنی'' تغریب عام'' (ایک سال کیلئے جلاوطنی) نہیں کی جائے گی۔
مطلق کا حکم :
    جب مطلق کے اطلاق پر عمل کرنا ممکن ہو تواس پر خبر واحد یا قیاس سے زیادتی کرنا جائز نہیں۔
مقیدکی تعریف :
    وہ اسم جس سے مع القید مسمی مراد لیا جائے خواہ وہ صفت ہو یا اسم جنس ۔
Flag Counter