(میرے غلاموں میں سے جوآزادی چاہے وہ آزادہے)اس کے بعدسب غلاموں نے ایک ساتھ ہی آزادہونا چاہا تو سب غلام آزاد ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ کلمہ ''مَن''عام ہے جو تمام غلاموں کو شامل ہے ۔
امام محمد رحمہ اللہ نے ایک مثال ذکر کی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی باندی (لونڈی)سے کہے :
''اِنْ کَانَ مَا فی بطنِکِ غلاماً فانتِ حُرَّۃٌ''
(یعنی اگر تیرے پیٹ میں لڑکا ہے تو توُ آزاد ہے)اس کے بعداس باندی نے ایک بچہ اور ایک بچی جنی تو وہ آزادی کی مستحق نہیں ہوگی کیونکہ ''ما'' کا عموم اس بات پر دلالت کرتاہے کہ وہ بچہ ہی جنے لیکن جب اس نے بچے کے ساتھ بچی کوجنا تو کلمہ'' ما'' کا مقتضیٰ پورا نہ ہونے کی وجہ سے وہ آزاد نہیں ہوگی۔