Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
25 - 144
تخصیص کا احتمال باقی رہتا ہے لہذا جب بقیہ افراد کی تخصیص پر کوئی دلیل قائم ہوجائے توان کو بھی تخصیص کے ذریعے عام کے حکم سے خارج کرنا جائز ہے اور اس کی تخصیص خبر واحد اور قیاس سے کی جا سکتی ہے حتی کہ یہ تخصیص اس وقت تک درست ہے جب تک کہ عام میں کم از کم تین افراد نہ رہ جائیں اوراس کے بعد مزید تخصیص کی ہر گز گنجائش نہیں لہذا اب بلا احتمال اس پر عمل کرنا واجب ہے۔
عامِ غیر مخصوص :
    عام کے حکم سے اگر کسی فرد کو بھی خارج نہ کیا جائے تو اسے ''عامِ غیر مخصوص'' کہتے ہیں۔جیسے اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
 ( فَاقْرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ  )
ترجمہ کنزالایمان:''اب قرآن میں سے جتنا تم پرآسان ہواتنا پڑھو۔ ''[المزمل: ۲۰] اس آیت مبارکہ میں لفظ ''ما'' عام ہے اور اس کے حکم یعنی قراء ت سے کسی فرد(آیت یا سورت) کو خاص نہیں کیا گیا، مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے کسی بھی مقام سے جتنا چاہو نماز میں تلاوت کرو۔

نوٹ:

    عامِ غیرمخصوص کا حکم خاص کی طرح ہے۔
''من''اور''ما''کا مفہوم اور ان کے ما بین وجہ فرق
     دونوں اصل کے اعتبار سے عموم کے لئے ہیں لیکن خصوص کابھی احتمال رکھتے ہیں اور وجہ فرق یہ ہے کہ'' مَنْ'' ذوی العقول کیلئے مستعمل ہے لیکن کسی قرینہ کی بناء پرکبھی غیر ذوی العقول کیلئے بھی استعمال ہوتاہے۔جبکہ ''ما
Flag Counter