| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
تخصیص کا احتمال باقی رہتا ہے لہذا جب بقیہ افراد کی تخصیص پر کوئی دلیل قائم ہوجائے توان کو بھی تخصیص کے ذریعے عام کے حکم سے خارج کرنا جائز ہے اور اس کی تخصیص خبر واحد اور قیاس سے کی جا سکتی ہے حتی کہ یہ تخصیص اس وقت تک درست ہے جب تک کہ عام میں کم از کم تین افراد نہ رہ جائیں اوراس کے بعد مزید تخصیص کی ہر گز گنجائش نہیں لہذا اب بلا احتمال اس پر عمل کرنا واجب ہے۔
عامِ غیر مخصوص :
عام کے حکم سے اگر کسی فرد کو بھی خارج نہ کیا جائے تو اسے ''عامِ غیر مخصوص'' کہتے ہیں۔جیسے اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
( فَاقْرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ )
ترجمہ کنزالایمان:''اب قرآن میں سے جتنا تم پرآسان ہواتنا پڑھو۔ ''[المزمل: ۲۰] اس آیت مبارکہ میں لفظ ''ما'' عام ہے اور اس کے حکم یعنی قراء ت سے کسی فرد(آیت یا سورت) کو خاص نہیں کیا گیا، مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے کسی بھی مقام سے جتنا چاہو نماز میں تلاوت کرو۔
نوٹ:
عامِ غیرمخصوص کا حکم خاص کی طرح ہے۔''من''اور''ما''کا مفہوم اور ان کے ما بین وجہ فرق
دونوں اصل کے اعتبار سے عموم کے لئے ہیں لیکن خصوص کابھی احتمال رکھتے ہیں اور وجہ فرق یہ ہے کہ'' مَنْ'' ذوی العقول کیلئے مستعمل ہے لیکن کسی قرینہ کی بناء پرکبھی غیر ذوی العقول کیلئے بھی استعمال ہوتاہے۔جبکہ ''ما