Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
18 - 144
دوسری مثال:
    ''الضرورات تبیح المحظورات''
یعنی ضرورت کے تحت ممنوعات بھی مباح وجائز ہو جاتے ہیں۔اس اصل کا استخراج واستنباط درجِ ذیل آیات سے ہوتا ہے:
    (1)۔۔۔۔۔۔(وَ قَدْ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیۡہِ ) 

    (2)۔۔۔۔۔۔(اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنۡزِیۡرِ وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللہِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیۡہِ )
[الانعام: 119]  [البقرۃ: 173]  ان آیات سے شراب وخنزیر وغیرہ کی حرمت ثابت ہوتی ہے لیکن حالتِ اضطرار میں ان اشیاء کو حلال ومباح کر دیا گیاہے، جیسے اگر بھوک یا پیاس سے کسی کی جان جارہی ہو اور اسے خنزیر کا گوشت یا شراب میسر ہوتو انہیں کھا یاپی کر جان بچائے اسی طرح اور بہت سی آیات واحادیث سے علماء وفقہاء نے اصول وقواعد اورمسائل واحکام کا استنباط کیا ہے جن کی تفصیل وتشریح سے کتب دینیہ مالا مال ہیں ان اصول وقواعد اور ان کی شرح کا مطالعہ کرنے سے عقول حیران رہ جاتی ہیں جب کہ اس زمانے میں موجودہ دور جیسی سہولیات مثلا بجلی وکمپیوٹر وجدید نظام چھپائی موجود نہ تھا پھر بھی علوم کا اتنا بڑا ذخیرہ ہمیں ان بزرگوں سے ملا ہے بلا مبالغہ جتنا کام ان عظیم حضرات میں سے ہر ہر فرد نے کیا ہے سینکڑوں لوگ بھی آج مل کر ایسا کام نہیں کرسکتے اللہ تعالی ہمیں ان بزرگوں کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے ۔اللہ تعالی کی ان پررحمت ہو اوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

                            شعبہ درسی کتب

                    المدینۃ العلمیۃ(دعوت اسلامی)
Flag Counter