| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
ترجمہ:
یعنی تابع اپنے متبوع پر مقدم نہیں ہوتا۔
مثال:
مقتدی(تابع)نماز میں اپنے امام(متبوع)سے پہلے تکبیرِ تحریمہ نہیں کہہ سکتا۔(الاشباہ والنظائر)قاعدہ نمبر: 55 '' اِنَّمَا تُعْتَبَرُ الْعَادَۃُ اِذَا اِطَّرَدَتْ أَوْ غَلَبَتْ ''
ترجمہ:
عادت کا اعتبارصرف اسی وقت کیا جاتاہے جب وہ عام یا غالب ہوجائے۔
مثال:
اگر کسی نے درزی کو کپڑے سلائی کیلئے دیئے تو بٹن،سوئی دھاگہ وغیرہ کے اخراجات عرف وعادت کے مطابق درزی کے ذمے ہونگے۔(الاشباہ والنظائر)قاعدہ نمبر: 56 '' مَالاَ یَتِمُّ الْفَرْضُ اِلاَّ بِہٖ فَہُوَ فَرْضٌ ''
ترجمہ:
جس کے بغیر فرض مکمل نہ ہوسکے وہ بھی فرض ہے۔