Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
140 - 144
بائع نے اسے نہیں بتلایا تھاتو وہ اسے بائع کو واپس کردے گا اور اس کی پوری قیمت واپس لے لے گااور اس کے منافع سے فیضیاب ہوگا کیونکہ غلام اس کی ذمہ داری اور ضمان میں تھا کہ اگر وہ اس مدت میں ہلاک ہوجاتاتو یہ اس مشتری کا مال ہلاک ہوتا،بائع پر کوئی ضمان وذمہ داری نہ ہوتی۔
قاعدہ نمبر: 48

'' لاَ اِجْتِہَادَ عِنْدَ ظُہُوْرِ النَّصِّ ''
ترجمہ:

     نص کی موجودگی میں اجتہادوقیاس جائز نہیں ۔

مثال:

     اگررکوع وسجود والی نماز میں کسی کا قہقہہ نکل جائے تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ وضوء نہ ٹوٹے لیکن اس صورت میں وضوء ٹوٹنے پر نص وارد ہے لہذا اس نص کی موجودگی میں قیاس واجتہاد جائز نہیں۔
قاعدہ نمبر: 49

'' اَلاَصْلُ فِی الْکَلاَمِ الْحَقِیْقَۃُ ''
ترجمہ: 

    کلام میں اصل حقیقی معنی ہے۔

مثال:

    اگر کسی نے اپنی اولاد پر کوئی چیز وقف کی تو اس میں اس واقف کے
Flag Counter