| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
بائع نے اسے نہیں بتلایا تھاتو وہ اسے بائع کو واپس کردے گا اور اس کی پوری قیمت واپس لے لے گااور اس کے منافع سے فیضیاب ہوگا کیونکہ غلام اس کی ذمہ داری اور ضمان میں تھا کہ اگر وہ اس مدت میں ہلاک ہوجاتاتو یہ اس مشتری کا مال ہلاک ہوتا،بائع پر کوئی ضمان وذمہ داری نہ ہوتی۔
قاعدہ نمبر: 48 '' لاَ اِجْتِہَادَ عِنْدَ ظُہُوْرِ النَّصِّ ''
ترجمہ:
نص کی موجودگی میں اجتہادوقیاس جائز نہیں ۔
مثال:
اگررکوع وسجود والی نماز میں کسی کا قہقہہ نکل جائے تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ وضوء نہ ٹوٹے لیکن اس صورت میں وضوء ٹوٹنے پر نص وارد ہے لہذا اس نص کی موجودگی میں قیاس واجتہاد جائز نہیں۔قاعدہ نمبر: 49 '' اَلاَصْلُ فِی الْکَلاَمِ الْحَقِیْقَۃُ ''
ترجمہ:
کلام میں اصل حقیقی معنی ہے۔
مثال:
اگر کسی نے اپنی اولاد پر کوئی چیز وقف کی تو اس میں اس واقف کے