| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ دوسرے کو ایثارکرتے ہوئے پانی دے دے، کیونکہ عبادات میں ایثار جائز نہیں۔
قاعدہ نمبر: 46 '' لاَیَجُوْزُ لاَحَدٍ اَنْ یَتَصَرَّفَ فِیْ مِلْکِ الْغَیْرِ بِلاَ اِذْنِہٖ ''
ترجمہ:
کسی کیلئے جائزنہیں کہ وہ غیر کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرے۔
مثال:
کسی طالب ِعلم کیلئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے کی کتاب،کپڑے،تولیہ، جوتے وغیرہ اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرے مگریہ کہ صراحۃً یا دلالۃً اذن ہو۔قاعدہ نمبر: 47 '' اَلْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ ''
ترجمہ:
منافع ضمان کے عوض ہوتے ہیں، یعنی اگر کوئی شی کسی کی ضمان میں ہے تو اس سے نفع حاصل کرلینے کا اسے کوئی معاوضہ نہ دینا ہوگالیکن نفع حاصل کرنے والا اس شی کے ہلاک ہوجانے کی صورت میں اس کی قیمت کا ضامن ہوگا۔
مثال:
کسی نے غلام خریدااور اس سے کام لیا پھر اس کے عیب پر مطلع ہوا جو کہ