| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
نے جوابا کہا : نعم(ہاں)توصرف نعم کہنے سے ہی طلا ق واقع ہوجائے گی کیونکہ جواب میں سوال کے الفاظ لوٹتے ہیں یعنی گویا کہ شوہر نے یوں کہا: نعم انت طالق(یعنی ہاں تجھے طلاق ہے)۔(بہارشریعت، حصہ۱۹، ص۲۳۹)
قاعدہ نمبر: 44 '' دَرْءُ الْمَفَاسِدِ اَوْلٰی مِنْ جَلْبِ الْمَصَالِحِ ''
ترجمہ:
نقصان سے بچنانفع کو حاصل کرنے سے بہترہے۔
مثال:
وضومیں کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا سنت ہے لیکن روزے کی حالت میں یہ عمل مکروہ ہے اس لیے کہ پانی جوف میں چلے جانے سے روزہ فاسد ہوجائے گالہذایہاں سنت پر عمل کے نفع کی نسبت روزہ ٹوٹنے کے نقصان سے بچنا بہترہے۔قاعدہ نمبر: 45 ''لاَ اِیْثَارَ فی الْقُرُبَاتِ ''
ترجمہ:
عبادات میں ایثارنہیں کیاجاسکتا۔
مثال:
اگرکسی کے پاس نمازکے وقت صرف اتناپانی ہے کہ وہ اپنا وضوء کرے تو