| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
صورت میں نماز کا سجدہ ترک کرنا پڑے گاتووہ بیٹھ کر نماز اداکرے اور رکوع وسجدہ اشارہ سے ادا کرے کیونکہ سجدہ ترک کردینا اس سے کمتر اور آسان ہے کہ نماز حالت حدث اور نجس جسم کے ساتھ پڑھے۔
قاعدہ نمبر: 40 '' اِذَا جَاءَ الاِحْتِمَالُ بَطَلَ الاِسْتِدْلاَلُ ''
ترجمہ:
جب احتمال آجاتاہے تو استدلال باطل ہو جاتاہے۔
مثال:
چارمسلمانوں نے کسی شخص کے خلاف زناکی گواہی دی لیکن بعد میں ان گواہوں کا فسق وفجور ثابت ہوگیاتوان کی گواہی رد کردی جائے گی کیونکہ اب ان کی گواہی میں کذب کا احتمال پیداہوگیالہذااب ان کی گواہی قابل استدلال نہیں رہی۔قاعدہ نمبر: 41 '' اَلضَّرَرُ لاَ یُزَالُ بِالضَّرَرِ ''
ترجمہ:
نقصان کا ازالہ اسی کی مثل نقصان سے نہیں کیا جائے گا۔
مثال:
کوئی شخص بھوک سے مررہاہواوراس کے پاس اتناہی کھاناہوکہ جسے کھاکراس کی جان بچ سکتی ہوپھر اسی طرح کا کوئی دوسرا شخص آجائے تو پہلے