| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
ترجمہ:
زمانہ کی تبدیلی کے سبب احکام کی تبدیلی کا انکار نہیں کیا جائے گا۔
مثال:
فی زمانہ چوری کے خوف کے سبب نماز کے اوقات کے علاوہ مسجد کا دروازہ بند کرنا،فتنہ کے خوف کے سبب عورتوں کو مسجد میں آنے سے روکنا اور شعائر اسلام کی بقاء کیلئے امامت واذان پر اجرت لیناودینا جائزہے۔ (مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۱۱۳)قاعدہ نمبر: 39 '' مَنِ ابْتُلِیَ بِبَلِیَّتَیْنِ وَہُمَا مُتَسَاوِیَانِ یَاْخُذُ بِاَیَّتِہِمَا شَاءَ وَاِنِ اخْتَلَفَا یَخْتَارُ اَہْوَنَہُمَا ''
ترجمہ:
اگر کوئی شخص دو مصیبتوں میں گرفتار ہوجائے اور دونوں برابر ہوں تو جس کوچاہے اختیار کرے اور اگر دونوں مختلف ہوں تو چھوٹی کو اختیار کرلے۔
مثال:
کسی کے جسم میں زخم ہے اگر وہ سجدہ کرتاہے تو زخم بہنے لگتاہے اور زخم بہے گا تو وضو ٹوٹے گا جسم ناپاک ہوگا اورسجدہ نہیں کرتاتوزخم نہیں بہتااس