Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
134 - 144
مثال:

    جیسے سود،زناکی اجرت،کاہن اور نجومی کی فیس، رشوت اورگانے باجے کی اجرت وغیرہا کہ ان میں سے ہر ایک کا لینابھی حرام ہے اور دینا بھی۔لیکن بے گناہ قیدی کو قید سے چھڑانے کیلئے یا اپنی عزت وآبروبچانے کیلئے یا کسی کو اپنی ہجووبے جا مذمت سے روکنے کیلئے رشوت دینا جبکہ اس کے بغیرکام نہ چلے ضرورتا جائز ہے اورایسی صورت میں دینے والے پر گناہ نہیں لیکن لینے والے کیلئے بہر حال حرام وگناہ ہے اور یہ صورتیں
''الضرورات تبیح المحظورات''
کے تحت آتی ہیں۔(بہارشریعت، حصہ۱۹)
قاعدہ نمبر: 37

'' اِذَا اجْتَمَعَ الْحَلاَلُ وَالْحَرَامُ غَلَبَ الْحَرَامُ ''
ترجمہ:

     جب حلال اور حرام جمع ہو جائیں تو غلبہ حرام کو ہوگا۔اس قاعدہ کی وضاحت یہ ہے کہ جب دودلیلیں باہم متعارض ہوں ایک حرمت کا تقاضا کرتی ہو اور دوسری اباحت کا تو دلیل حرمت کو اباحت پر مقدم کیاجائے گا۔یعنی اسے ترجیح دی جائے گی۔

مثال:

    حلال وحرام جانور کے ملاپ سے پیداشدہ بچے کا کھانا حلال نہیں کیونکہ یہاں حلال وحرام جمع ہوگئے ہیں لہذا حرام کو غلبہ حاصل ہوگا۔
Flag Counter