Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
133 - 144
سبب بننے والا) دونوں جمع ہو جائیں توحکم ''مباشر''کی طرف منسوب کیا جائے گا۔

مثال:

    کسی شخص نے زیادتی کرتے ہوئے کنواں کھودااور اس میں دوسرے شخص نے کسی کی شی کو ڈال کر ضائع کردیاتو ضمان متسبِّب یعنی کنواں کھودنے والے پر نہیں بلکہ مباشر یعنی کنویں میں ڈالنے والے پر ہے۔
قاعدہ نمبر: 35

'' اَلْحُکْمُ یَتْبَعُ الْمَصْلِحَۃَ الرَّاجِحَۃَ ''
ترجمہ:

     حکم مصلحتِ راجحہ کے تابع ہوتاہے۔

مثال:

    قران کریم میں کئی مقامات پر جہاد کا حکم ہے،جہاد میں ایک طرف تو قتل نفس واتلاف مال ہے اور دوسری طرف کلمہ حق کی سر بلندی، اور ظاہر ہے کہ کلمہ حق کی بلندی مصلحت راجحہ ہے کہ اس کے نتیجے میں جان ومال کو امن حاصل ہوتاہے۔
قاعدہ نمبر: 36

'' مَاحَرُمَ اَخْذُہ، حَرُمَ اِعْطَاءُ ہ، ''
ترجمہ:

    جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔
Flag Counter