| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
مثال:
رہن جب تک مُرْتَہِنْ(جس کے پاس چیز گروی رکھی گئی)کے ہاتھ میں ہے رَاہِنْ(گروی رکھنے والا)اسے بیچ نہیں سکتا،کیونکہ یہاں دلیلِ مانع ودلیلِ مقتضی باہم متعارض ہیں ۔وہ اس طرح کہ راہن کی ملکیت اس بات کے جواز کا تقاضاکرتی ہے کہ اسے اپنی شی میں تصرف کا حق حاصل ہے جبکہ مرتہن کی حق تلفی اس کے مانع ہے لہذا مانع کو مقتضی پر ترجیح دی جائے گی۔قاعدہ نمبر: 33 ''ذِکْرُ بَعْضِ مَالَا یَتَجَزَّءُ کَذِکْرِ کُلِّہٖ ''
ترجمہ:
یعنی جوشی تقسیم نہ ہو سکتی ہواس کے بعض کا ذکر کل کے ذکر کی مثل ہوتا ہے۔
مثال:
کسی نے اپنی بیوی کو نصف طلاق دی تو ایک طلاق واقع ہوگئی یا اس نے نصف عورت کو طلاق دی تو کل کو طلاق واقع ہوگی،کیونکہ طلاق ایسی شی ہے جو اجزاء میں تقسیم نہیں ہوسکتی۔قاعدہ نمبر: 34 '' اِذَا اجْتَمَعَ الْمُبَاشِرُ وَالْمُتَسَبِّبُ اُضِیْفَ الْحُکْمُ اِلَی الْمُبَاشِرِ''
ترجمہ:
جب کسی فعل میں''مباشر''(خود عمل کرنے والا)اور''متسبب'' (کام کا