| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
ترجمہ:
یعنی عرف وعادت پر شرعاعمل کیا جائے گا۔
مثال:
اگر کسی شہر میں مختلف قسم کے درہم ودینار چل رہے ہوں(یعنی مختلف قسم کے سکے چل رہے ہوں)وہاں اگر کسی نے کوئی چیز دس درہم یا دس دینار میں خریدی یا فروخت کی تو بائع وہ درہم یا دینار لینے کا مستحق ہوگا جن کا چلن وہاں کے عرف وعادت میں غالب ہو،اگر خریدارکوئی دوسرا سکہ یا دوسرے قسم کے درہم ودینارچاہے تو بائع کو (بیچنے والے کو )انکار کا حق ہوگا۔قاعدہ نمبر: 32 '' اِذَا تَعَارَضَ الْمَانِعُ وَالْمُقْتَضِیْ فَاِنَّہ، یُقَدَّمُ الْمَانِعُ ''
ترجمہ:
جب ''دلیلِ مانع'' اور''دلیل مقتضی'' (تقاضا کرنے والی )باہم متعارض آجائیں تو ''دلیلِ مانع''کو مقدم کیا جائے گا یعنی جب ایک مسئلہ میں دودلیلیں آپس میں اس طرح متعارض آئیں کہ ایک حکم کی نفی اور دوسری اس کے اثبات کا تقاضا کرتی ہوتو پھر ''دلیل مانع ''کو ''دلیل مثبت'' پر ترجیح دی جائے گی۔