| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
مثال:
اگرکسی نے نماز میں ایسی آیت کی تلاوت کی جو سائل کا جواب بھی ہوسکتی ہے،اگر اس آیت سے مقصود جواب دیناہے تو یہ فعل حرام ہے اور نماز فاسد ورنہ نہیں۔مثلا کسی موسی نامی شخص سے اس کا نام پوچھا گیاتودوران نمازاس نے یہ آیت پڑھی(وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۱۷﴾ )
ترجمہ کنزالایمان:''اوریہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسی۔''[طہ: ۱۷]اس سے مقصود اگر قرآن کی تلاوت ہے تو نماز درست اور اگرسائل کاجواب دینا مقصود ہے تو نماز فاسد۔
قاعدہ نمبر: 28 '' اَلْیَقِیْنُ لا یَزُوْلُ بِالشَّکْ ''
ترجمہ:
یعنی یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔
مثال:
اگرکسی شخص کو اپنے باوضو ہونے کا یقین ہو اور وضو ٹوٹنے میں شک ہے تووہ باوضو مانا جائے گا۔ایسے ہی کسی شخص کے زندہ ہونے کا یقین ہو اور مرنے میں شک ہے تواسے زندہ ہی مانا جائے گا اور اس کی وراثت تقسیم نہیں کی جائے گی۔قاعدہ نمبر: 29 '' اَلضَّرُوْرَاتُ تُبِیْحُ الْمَحْظُوْرَاتِ ''