ترجمہ:
مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتاہے۔
پہلی مثال:
قرآن شریف نے قسم اور ظہار کے کفارے میں ایک مملوک (لونڈی یا غلام)کو آزاد کرنے کا حکم فرمایا ہے جوکہ مطلق ہے یعنی اس میں یہ قید نہیں کہ وہ مومن ہو یا کافر، لہذا دونوں میں سے کسی کو بھی آزا د کرنے سے حکم قرآنی پر عمل ہو جائے گا۔(حسامی ، اصول الشاشی)
دوسری مثال:
اللہ تبار ک وتعالی نے قرآنِ عظیم میں مومنوں کو اپنے حبیب کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر درود وسلام پڑھنے کا حکم ارشادفرمایا، اور اپنی رحمتِ واسعہ سے اس حکم کو مطلق رکھا، یعنی اس میں زمان ومکان وصیغہ وہیئت کی کوئی قید نہیں لگائی لہذا مومنین درود وسلام جب چاہیں ، جس وقت چاہیں، اور جس ہیئت وصیغہ کے ساتھ چاہیں ،پڑھ کر حکم خداوندی پر عمل کی سعادت پاسکتے ہیں۔