ترجمہ:
کسی کے اقرار سے اس کی اپنی ذات کے بارے میں معاملہ برتاجائے گا اور دوسرے کے حق کو باطل کرنے میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی غیر پر کوئی حق لازم کیا جائے گا۔
مثال:
اگر کسی مَجْہُوْلُ النَّسَبْ عورت نے کسی شخص کی لونڈی ہونے کا اقرار کیا اور اس شخص نے اس بات کی تصدیق بھی کردی تو وہ عورت اس کی لونڈی شمارکی جائے گی لیکن عورت کے اس اقرار سے اس کے شوہر کا نکاح باطل نہیں ہوگا، اور نہ ہی شوہر مقرلہ (جس کے حق میں عورت نے اقرار کیا)کو ضمان دے گا جبکہ عورت کو ایک مرتبہ مہر ادا کرچکاہو، کیونکہ اس طرح کسی کے اپنی ذات کے بارے میں اقرار سے دوسرے کے حق کو باطل کرنا اور اس پر کوئی حق ثابت کرنا لازم آئے گااور یہ درست نہیں۔(اصول بزدوی، مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۱۲۰)