| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
ترجمہ:
مباح چیز قبضہ کرلینے سے ملک میں آجاتی ہے۔
مثال:
کسی نے کنویں یا بارش کا پانی اپنے برتن میں بھر لیا یا کسی غیر مملوک پرندے یا جانور مثلا جنگلی کبوتر، ہرن، مچھلی وغیرہ کو پکڑ لیا تو یہ تمام چیزیں اس کی ملک میں آجائیں گی۔(عامہ کتب)قاعدہ نمبر: 24
''مَنْ شَکَّ ہَلْ فَعَلَ شَیْأاً اَمْ لَا فَالاَصْلُ اَنَّہ، لَمْ یُفْعَلْ''ترجمہ:
کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے میں شک ہوتواصل یہ کہ وہ کام نہیں کیا گیا۔
مثال:
اگر کسی کو نماز پڑھ لینے یا نہ پڑھنے کے بارے میں شک ہوتو وقت باقی ہونے کی صورت میں اعادہ کرلے، اسی طرح اگر واجباتِ نماز میں سے کسی واجب کے کرنے یا نہ کرنے میں شک ہوتو یہ سمجھا جائے گا کہ اس سے واجب چھوٹ گیا لہذا سجدہ سہو کریگا۔اسی طرح اَثناءِ وضوء میں کسی رکن کے ادا کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں شک ہوتواس رکن کا اعادہ واجب ہے۔ (الاشباہ والنظائر، مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۱۲۹)