| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
میں یہ عذر زائل ہوجائے گا اور تیمم باطل ہوجائے گا۔(الاشباہ والنظائر، مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۱۱۵، کتب عامہ)
مثال۲:
شریعت نے عذر صحیح کے سبب فرض نماز بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت دی ہے لہذا عذر کے زائل ہوتے ہی بیٹھ کرفرض نمازپڑھنے کا جواز باطل ہوجائے گا۔قاعدہ نمبر: 20
''مَا حَصَلَ بِسَبَبٍ خَبِیْثٍ فَالسَّبِیْلُ رَدُّہ،''ترجمہ:
جو غیر شرعی ذریعے سے حاصل ہواسے واپس کئے بغیر چارہ نہیں۔
پہلی مثال:
جو پیسہ سود کے ذریعے حاصل کیا جائے اس کا لوٹا دینا فرض ہے کیونکہ یہ غیر شرعی طریقے سے حاصل ہواہے۔(فتاوی رضویہ)
دوسری مثال:
بیع فاسد کے ذریعے حاصل ہونے والامال بھی لوٹانا ضروری ہے۔(ایضا)
تیسری مثال:
چوری کے ذریعے حاصل ہونے والا مال بھی لوٹانا ضروری ہے۔(ایضا)قاعدہ نمبر: 21
''مَارَاٰہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَناً فَہُوَ عِنْدَ اللہِ حَسَنٌ''