Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
123 - 144
قاعدہ نمبر: 18

''مَا ثَبَتَ عَلٰی خِلافِ الْقِیَاسِ فَغَیْرُہُ لا یُقَاسُ عَلَیْہِ''
ترجمہ:

    جو خلافِ قیاس ِشرعی ثابت ہو تواس پر دوسرے کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔

مثال:

    قرآن شریف میں ہے:
 ( وَاسْتَشْہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ  )
ترجمہ کنزالایمان:''اوردوگواہ کرلو۔'' [البقرۃ: ۲۸۲] لیکن حدیث شریف میں ہے کہ نبی مختار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے صرف ایک صحابی حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو قبول فرمالیا لیکن چونکہ یہ خلافِ قیاس ہے لہذا اس پر قیاس کرتے ہوئے دوسرے کیلئے یہ جائز نہیں کہ صرف ایک شخص کی گواہی پر اکتفاء کرے۔ (مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۱۱۴)
قاعدہ نمبر: 19

''مَا جَازَ لِعُذْرٍ بَطَلَ بِزَوَالِہٖ''
ترجمہ:

    جو کسی عذر کے سبب جائز ہوجائے تو اس عذر کے ختم ہوتے ہی باطل ہوجا تاہے۔

مثال۱:

    پانی نہ ہونے کے عذر سے تیمم جائز قرار دیاگیا ہے، لہذا پانی کی موجودگی
Flag Counter