Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
122 - 144
قاعدہ نمبر: 16

''لا یُحَلَّفُ عَلٰی حَقٍّ مَجْہُوْلٍ''
ترجمہ:

    کسی حقِ مجہول پرقسم نہیں اٹھوائی جائے گی۔

مثال:

    اگر کسی شخص نے دوسرے کے خلاف دعوی کیا کہ اس نے میرے حق میں کوئی خیانت کی ہے تو مدعی علیہ (یعنی جس کے خلاف دعوی کیا گیاہے)سے قاضی قسم نہیں لے گا۔(الاشباہ والنظائر، مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۱۱۱، درمختار)
قاعدہ نمبر: 17

''مَا ثَبَتَ بِزَمَانٍ یُحْکَمُ بِبَقائِہٖ مَا لَمْ یُوْجَدْ دَلِیْلٌ بِخِلافِہٖ''
ترجمہ:

    جو چیز زمان سے ثابت ہووہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک کہ اس کے خلاف پر دلیل نہ پائی جائے۔

مثال:

    کسی زمانہ میں کوئی چیز کسی شخص کی ملکیت میں ثابت ہوجائے تو اسی کی ملک میں باقی رہنے کا حکم دیاجائے گا، جب تک کہ اس کے خلاف کوئی دلیلِ شرعی نہ ہو۔(مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۱۱۴)
Flag Counter