| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
ترجمہ:
ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ اداکی جائے اس کا اعادہ واجب ہے۔
مثال:
اگر کوئی شخص نماز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرنا بھول گیا اور سجدہ سہو نہیں کیاتو نماز مکروہ تحریمی ہوئی لہذا اس کا اعادہ واجب ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ کراہت ،نماز میں اگرکسی خارجی سبب سے ہوتو نماز کا اعادہ واجب نہیں جیسے قراء ۃ میں سورتوں کی ترتیب الٹ دینا یا ریشمی لباس پہنے نماز پڑھنااگرچہ مکروہِ تحریمی ہے لیکن ان کی وجہ سے نماز کا اعادہ واجب نہیں۔(درمختار،ومجموعۃ قواعد الفقہ، ص۱۰۰)قاعدہ نمبر: 15 '' لا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ''
ترجمہ:
خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
مثال:
والدین کی اطاعت ضروری ہے لیکن اگر وہ فرض نماز وحج سے منع کریں تواس کام میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی، کیونکہ اس طرح خالق کی نافرمانی وحکم عدولی لازم آتی ہے جوکہ مخلوق کیلئے کسی صورت میں جائز نہیں۔ (ردالمحتار، مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۱۰۶)