| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
کے اعتبار سے مکیلی اورموزونی ہی رہیں گی چاہے عرفا وعادۃ انہیں کسی اور طریقے سے بیچاجائے، مثلا: گندم وجوکے مکیلی ہونے پر نص وارد ہے لیکن آج کل انہیں ناپ کر نہیں بلکہ تول کر بیچا جاتاہے لہذا اس عرف وعادت کی بناء پر یہ موزونی نہیں ہوجائیں گی بلکہ مکیلی ہی رہیں گی۔اور گندم کو گندم کے عوض تول کر نہیں بیچا جاسکتا۔
وعلی ھذا القیاس فی البواقی۔(مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۹۲، ۱۳۳)
قاعدہ نمبر: 13 ''اَلْکِتَابُ کَالْخِطَابِ''
ترجمہ:
لکھ کر دینا زبان سے بولنے کے حکم میں ہے۔
مثال:
خرید وفروخت ، نکاح وطلاق وغیرہ عقود کے الفاظ لکھ کر دینے سے بھی یہ عقود اسی طرح درست قرار پاتے ہیں جس طرح بذریعہ زبان یہ عقود کیے جاتے ہیں لیکن کتابت کے ذریعے ان عقود میں یہ شرط ہے کہ عاقد یاتو خود اقرار کرے کہ یہ میری طرف سے ہے یا اس پر اور کوئی دلیلِ شرعی قائم ہوجائے۔ (مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۹۹)قاعدہ نمبر: 14 ''کُلُّ صَلاۃٍ اُدِّیَتْ مَعْ کَرَاہَۃِ التَّحْرِیْمِ تَجِبُ اِعَادَتُہَا''