Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
118 - 144
کیلئے ایک پیسے کی چیز نہیں خریدے گا پھر اس کیلئے ایک درہم کی چیزخریدلی تواس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، کیونکہ الفاظِ قسم میں فلس کا ذکر ہے جوکہ درہم پر نہیں بولا جاتا۔ (مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۶۵)
قاعدہ نمبر: 9

''اَلْحَقِیْقَۃُ تُتْرَکُ بِدَلالَۃِ الْحَالِ وَتُتْرَکُ بِدَلالَۃِ الاسْتِعْمَالِ وَالْعَادَۃِ''
ترجمہ:

    حقیقت دلالتِ حال، دلالتِ استعمال، اور دلالتِ عادت کے سبب ترک کردی جاتی ہے۔

مثال:

    اگر کسی نے قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھائے گا تو(معاذ اللہ) خنزیریاآدمی کا گوشت کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ عادۃ ان کا گوشت نہیں کھایا جاتا۔ (مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۷۸)
قاعدہ نمبر: 10

''اَلْخَطَأُ فِیْمَا لا یُشْتَرَطُ التَّعْیِیْنُ لا یَضُرُّ''
ترجمہ:

    جس چیز میں تعیین شرط نہیں اسکی تعیین میں خطا نقصان دہ نہیں ۔

مثال:

    اگر کسی نے ظہر یا عصر کی چار رکعت فرض کی جگہ غلطی سے تین رکعات کی
Flag Counter