| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
قاعدہ نمبر: 7 '' اُمُوْرُ الْمُسْلِمِیْنَ عَلَی السّدَادِ حَتّٰی یَظْہَرَ غَیْرُہ، ''
ترجمہ:
مسلمانوں کے کاموں کو اچھائی پر محمول کیا جائے گا، جب تک کہ اس کا غیر ظاہر نہ ہوجائے۔
مثال:
اگر کسی شخص نے ایک درہم ودینار کو دو درہم ودینارکے عوض بیچا تو اس کی بیع باطل قرار نہیں دی جائے گی بلکہ ایک جنس کو دوسری جنس (یعنی ایک درہم کے عوض دو دینار اور ایک دینار کے عوض دو درہم )کی طرف پھیر کر عقد کو صحیح قرار دیاجائے گا، ہاں اگربائع خود وضاحت کردے کہ درہم درہم کے عوض اور دینار دینار کے عوض ہیں تو اب بیع یقینا فاسد ہوجائے گی۔(مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۶۳)قاعدہ نمبر: 8 ''اَلایْمَانُ مَبْنِیَّۃٌ عَلَی الا لْفَاظِ''
ترجمہ:
قسموں کا دارومدار الفاظ پر ہوتا ہے ۔
مثال:
اگر کسی نے قسم کھائی کہ ''لا یَشْتَرِیْ لِفُلانٍ شیاً بفلسٍ''
یعنی فلاں