| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
کا غلبہ نہیں رہتا، یہی وجہ ہے کہ اگر کافر کا غلام اسلام لے آیا تو اس نومسلم کوکافر کی غلامی میں نہیں رہنے دیاجائے گا، بلکہ کافر کو اس کے بیچنے پرمجبور کیاجائے گا۔ (مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۵۸)
قاعدہ نمبر: 4 ''الَاِضْطِرَارُ لا یُبْطِلُ حَقَّ الْغَیْرِ''
ترجمہ:
مجبوری غیر کے حق کو باطل نہیں کرسکتی۔
مثال:
اگر کسی انسان نے بھوک کی وجہ سے حالت اضطرار میں کسی دوسرے کا کھانا کھالیاتواس کھانے کی قیمت اداکرنا ہوگی، کیونکہ یہ مجبوری کھانے کے مالک کا حق باطل نہیں کرسکتی۔(مجموعۃ قواعد الفقہ، ص۶۰)قاعدہ نمبر: 5 ''اَلاَمْرُ لِلْوُجُوْبِ مَا لَمْ تَکُنْ قَرِیْنَۃٌ خِلافَہ،''
ترجمہ:
امر (جب مطلق ہوتو)وجوب کیلئے ہوتاہے جب تک کہ اس کے خلاف پرکوئی قرینہ نہ ہو۔
مثال:
قرآن شریف میں ہے:( وَلْیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمْ )
ترجمہ