اب الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہورہی ہیں ۔ جدید مکتبے کُھل رہے ہیں۔ نئے نئے مصنفین اپنی قلمی کاوِشوں کو منظرِ عام پر لارہے ہیں۔ آج کل کاروباری اصول یہ ہے کہ جب کوئی چیز بازار میں چل نکلتی ہے تو پھر اس کے معیار پر توجُّہ کم اوراس کی مقدار بڑھانے اورخوب کمانے پر دھیان زیادہ دیا جاتاہے ۔یہی حال کتابوں کے معاملے میں بھی دیکھا گیا ، طباعت کی فاحِش اَغلاط سے بھر پور کتابیں بھی دھڑا دھڑ بکنے لگیں ۔ ان تشویشناک معاملات پر قابو پانے کی کوشش کی ایک کڑی یہ ہے کہ دعوت اسلامی سے محبت کرنے والے سنّیوں کے مکتبوں اورجدید مُصنِّفین ومُؤلِّفین کی ایک تعداد کو جمع کر کے ان کا بھرپور مَدَنی مشورہ کیا گیا اورانہیں غیرمُحتاط کُتُب چھاپنے کے سبب پھیلنے والی مُتَوَقّع گمراہی اورہونے والے گناہِ جارِیہ کا خوف دلایا گیا ۔ اس سے ان پر بَہُت ہی اچّھا اثر پڑا ۔چنانچِہ غیرمحتاط کُتُب چھاپنے کے سبب اُمّتِ مُسْلِمہ میں پھیلنے والی گمراہی اور ہونے والے گناہِ جارِیّہ کے سدِّباب کے ليے ''مجلس ِ تفتیشِ کُتُب ورسائل''قائم کی گئی جو مُصَنِّفِین ومُؤَلِّفِین کی کُتُب کو عقائد،کفریات ، اخلاقیات،عربی عبارات اورفقہی مسائل کے حوالے سے ملاحَظہ کرکے سند جاری کرتی ہے۔