Brailvi Books

تعارف امیرِ اہلسنّت
58 - 88
اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ الھادی لکھتے ہیں:''مولانا محمد الیاس صاحب اس زمانے میں فی سبیل اللہ بغیر مشاہرے اور نذرانے کی طرف طمع کے خالص اللہ عزوجل کے لئے اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی رضا جوئی کے لئے اتنا عظیم الشان کام عالمگیر پیمانے پر کر رہے ہیں ۔ جس کے نتیجہ میں بدعقیدہ، صحیح العقیدہ سنّی ہوگئے اورلاکھوں شرِیْعَت سے بيزار افرادشریعت کے پابند ہوگئے۔ بڑے بڑے لکھ پتی ، کروڑ پتی گریجویٹ نے داڑھیاں رکھیں، عمامہ باندھنے لگے ،پانچوں وقت باجماعت نماز ادا کرنے لگے اوردینی باتوں میں دلچسپی لینے لگے۔ کیا یہ کارنامہ اس لائق نہیں کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قبول ہو۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :
''من تمسک بسنّتی عند فساد امّتی فلہ اجرمائۃ شھید''
(مشکوٰۃ ص ۳۰)
(یعنی ) میری امّت کے بگڑنے کے وقت جو میری سنّت کا پابند ہوگا اسکو100 شہیدوں کا ثواب ملے گا ۔ جب امّت کے بگڑنے کے وقت سنّت کی پابندی کرنے والے کیلئے 100 شہیدوں کا ثواب ہے تو جو بندۂ خدا سنّت کا پابند ہوتے ہوئے کروڑوں انسانوں کو ایک نہیں اکثر سنّتوں کا پابند بنادے اس کا اجْرکتنا ہوگا۔''
    اسی طرح اُستاذُ العُلَماء والفُقْہاء حضرت مولانا مفتی عبدالقیوم ہزاروی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں،''فقیر نے خود ان سے ملاقات کی ہے انہیں بے حد مُتَواضِع، باعَمَل، عوام کا دَرْد رکھنے والا ،عُلَمائے کِرام کی تعظیم کرنے والا اورمذہب ِاسلام کی تعمیر وترقی کے سلسلے میں بے حد مخلص پایا۔آپکی تحریک سے وابستہ نوجوانوں کاسنّتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میں ڈھلا ہوا سانچہ خود پکارپکار کر مولانا(الیاس قادِری) کے اخلاص
Flag Counter