Brailvi Books

تعارف امیرِ اہلسنّت
57 - 88
کے مقابلے میں ان کو عبادت کا ثواب بھی زیادہ ملتا ہے۔'' چُنانچِہ حضرتِ محمد بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مَروی ہے : ''عالم کی دو رَکْعَت غیرِ عالم کی ستّر رَکْعَتْ سے افضل ہے۔''
 (کنزالعُمّال، کتاب العلم ،الباب الاول ،ج ۱۰ ص ۶۷ ،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
    لہٰذا دعوتِ اسلامی کے تمام وابَستگان بلکہ ہر مسلمان کے لئے ضَروری ہے کہ وہ عُلَمائے اہلسنّت سے ہر گز نہ ٹکرائیں، ان کے ادب و احِترام میں کوتاہی نہ کریں، عُلَمائے اہلسنّت کی تَحقیر سے قَطْعاً گُرَیز کریں، بِلا اجازتِ شرعی ان کے کردار اور عمل پر تنقید کرکے غیبت کا  گناہِ کبیرہ، حرام اور جھنَّم میں لے جانے والاکام نہ کریں، حضرتِ سیِّدُنا ابوالحَفص الکبیر علیہ رحمۃُ القدیر فرماتے ہیں:''جس نے کسی عالِم کی غیبت کی تو قِیامت کے روز اُس کے چہرے پر لکھا ہوگا، یہ اللہ کی رَحْمت سے مایوس ہے۔''
 (مُکاشَفَۃُ الْقُلُوْب ،ص ۷۱،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
    ایک مکتوب میں لکھتے ہیں :''علماء کو ہماری نہیں ،ہمیں علماء دامت فیوضھم کی ضرورت ہے ،یہ مَدَنی پھول ہر دعوتِ اسلامی والے کی نس نس میں رچ بس جائے۔'' ایک مرتبہ فرمایا: ''علماء کے قدموں سے ہٹے تو بھٹک جاؤ گے۔''
مجھ کو اے عطّار سُنّی عالموں سے پیار ہے 

ان شآء اللہ عزوجل دوجہاں میں اپنا بیڑا پارہے
علماء کرام دامت فیوضہم کی آپ مدظلہ العالی سے محبت:
    الحمدللہ عزوجل! علمائے اہلِسنّت دامت فیوضہم بھی آپ کی مَدَنی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی فرماتے رہتے ہیں مثلاًشارح بخاری ،فقیہ
Flag Counter