بس اب کیا تھا دل میں پہلے ہی سے سلگنے والی عشقِ مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی آگ اب مزید بھڑک اُٹھی۔ اشک ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لیتے ،عشق کے انداز بھی نرالے ہوتے ہیں۔ ہجروفراق میں بھی اشکباری ،حاضری کی اجازت پر بھی گریہ و زاری۔۔۔۔۔۔آپ دامت برکاتہم العالیہ کی منفرد اور پرسوز کیفیات کی عکاسی ان اشعار سے ہوتی ہے :
مجھ کودرپیش ہے پھرمبارَک سفر قافِلہ پھر مدینے کا تیار ہے
نیکیوں کا نہیں کوئی تَوشہ فقط میری جھولی میں اشکوں کااِک ہارہے
کوئی سَجدوں کی سوغات ہے نہ کوئی زُہدوتقویٰ مِرے پاس سرکارہے
چل پڑاہوں مدینے کی جانب مگر ہائے سر پر گناہوں کا انبار ہے
جُرم وعصیاں پہ اپنے لَجاتاہوا اور اَشکِ نَدامت بہاتا ہوا
تیری رحمت پہ نظریں جماتاہوا در پہ حاضر یہ تیرا گنہگارہے