| تعارف امیرِ اہلسنّت |
سرکارِ ابد قرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے بھرپور محبت کا نتیجہ ہے کہ امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی زندگی سنّتِ مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے سانچے میں ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے۔آپ دامت برکاتہم العالیہ کا عاشقِ رسول ہونا ہر خاص وعام پر اتنا ظاہر وباہِر ہے کہ آپ کو عاشقِ مدینہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ کو بار ہا یادِ مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اور فراق طیبہ میں آنسوبہاتے دیکھا گیا ہے۔ اجتماع ِ ذکرونعت میں تو آپ کی رقّت کا بیان کرنے سے قلم قاصر ہے۔ کبھی کبھی آپ یادِ مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں اس قدردیوانہ وار تڑپتے اور روتے ہیں کہ دیکھنے والوں کو رحم آنے لگتا ہے اور وہ بھی رونے لگتے ہیں۔
سرکارِ کے قدموں کے نشاں ڈھونڈرہا ہے جو اشک مری آنکھ کی پُتلی سے گِرا ہے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
شادی کا سب سے پہلا دعوت نامہ:
امیرِ اہل ِسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی شادی کا سب سے پہلا دعوت نامہ ایک ساکنِ مدینہ اسلامی بھائی کے ذریعے بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم میں بھجوایا۔ جنہوں نے اسے سنہری جالیوں کے روبرو پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔(آپ کچھ یوں فرماتے ہیں کہ ) وقتِ نکاح یہ سوچ مجھ پر عجیب کیف طاری کئے دے رہی تھی کہ میں نے بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم میں دعوت عرض کی ہے،دیکھئے اب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کب کرم فرماتے ہیں