جب مدینہ پاک کی طرف روانگی کی مبارَک گھڑی آئی تواس وقت جو آپ دامت برکاتہم العالیہ کی کیفیت تھی اس کو کماحقہ صفحہ قرطاس پر لانا ممکن نہیں۔ائیر پورٹ پر عاشقانِ رسول کا ایک جمِ غفیر آپ کو الوداع کہنے کے لئے موجود تھا۔ مدینے کے دیوانوں نے آپ کو جھرمٹ میں لے کر نعتیں پڑھنا شروع کردیں۔
سوزوگدازمیں ڈوبی ہوئی نعتوں نے عشاق کی آتش ِعشق کو مزید بھڑکا دیا۔غمِ مدینہ میں اٹھنے والی آہوں اور سسکیوں سے فضاسوگوار ہوئی جارہی تھی۔ شاید ہی کوئی آنکھ ایسی ہوگی جو فراق ِطیبہ میں نم نہ ہو،خود عاشق مدینہ امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ
کی کیفیت بڑی عجیب تھی۔ آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ اورآپ دامت برکاتہم العالیہ اپنے ان اشعار کے مصداق نظر آرہے تھے،۔۔۔۔۔۔