توآپ فکر ِمدینہ میں ڈوب گئے کہ ''بعد ِموت غسلِ میت ، تدفین او رمنکر نکیر کے سوالات کے جوابات کے وقت کی سختیاں اور ان عظیم آزمائشوں کے وقت عقل اور محسوس کرنے کی صلاحیت جوں کی توں باقی رہے گی تو کیا حال ہوگا؟''یہ سوچ کر آپ پر بڑی رقّت طاری ہوئی اور آپ پر خوفِ خداعزوجل کا اسقدر غلبہ ہواکہ آپ نے بالکل خاموشی اختیار فرمالی اور بے قرار رہنے لگے ۔
( کچھ عرصہ گزرنے کے بعد) آپ نے کچھ اس طرح سے فرمایا کہ'' اس کیفیت کے باعث میں نے محسوس کیا کہ ہمارے بزرگانِ دین رحمھم اللہ خوف خدا عزوجل سے کس طرح لرزاں و ترساں رہا کرتے تھے ، اب میں کھانا بھی کھارہاہوں ، سو بھی رہا ہوں، مگر ایسا لگتا ہے کہ کھانے کی لذَّتیں اورسونے کا لطف جاتا رہاہے ، اب کسی چیز میں مزہ نہیں آرہا، ایسا لگتا ہے جیسے کوئی غم لگ گیا ہے۔''(یہی وجہ ہے کہ) اکثر آپ کوکمرے میں تنہا مُناجات کرتے اورروتے ہوئے دیکھا گیا۔امیرِاہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے خوفِ خداعزوجل سے معمور بیانات''اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر''اور ''مردے کے صدمے '' وغیرہماسننے سے تعلق رکھتے ہیں۔