| تعارف امیرِ اہلسنّت |
امیرالمؤمنین مولا مشکل کُشا سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم،نورِ مجسم ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' جس نے دنیا سے بے رغبتی اختیار کی ، اللہ تعالیٰ اس کو بغیر تعلیم حاصل کئے علم عطا فرمادیتا ہے اور بغیر ظاہری اسباب کے صحیح راستہ چلاتا ہے اور اس کو صاحبِ بصیرت بنا دیتاہے اور اس سے جہالت کو دور فرماتا ہے۔''
(الجامع الصغیر،الحدیث ۸۷۲۵،ص۵۲۸،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ دورِ شباب ہی میں علومِ دینیہ کے زیور سے آراستہ ہوچکے تھے۔آپ دامت برکاتہم العالیہ نے حصولِ علم کے ذرائع میں سے کتب بینی اورصحبتِ علماء کو اختیار کیا ۔اس سلسلے میں آپ نے سب سے زیادہ استفادہ مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقارالدین قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے کیا اور مسلسل ۲۲ سال آپ علیہ رحمۃ اللہ الوالی کی صحبت بابَرَکت سے مستفیض ہوتے رہے حتیٰ کہ انہوں نے قبلہ امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو اپنی خلافت واجازت سے بھی نوازا۔
مطالعہ کی لگن:
الحمدللہ عزوجل! کثرتِ مطالعہ ،بحث وتمحیص اوراَکابر علَماء ِکرام سے تَحْقِیق وتَدْقِیق کی وجہ سے آپ دامت برکاتہم العالیہ کو مسائلِ شَرْعیہ اورتصوّف واَخلاق پر دسترس ہے ۔ صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی شہرۂ آفاق تالیف ''بہارِ شریعت'' کے تکرارِ مطالعہ کے لئے آپ دامت برکاتہم العالیہ کے شوق کا عالَم دیدنی ہے ،امامِ اہلِسنّت ،مجددِ دین وملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے