| تکبر |
(1) مکان کو ریشم، چاندی، سونے سے آراستہ کرنا مثلاً دیواروں، دروازوں پر ریشمی پردے لٹکانا اور جگہ جگہ قرینے سے سونے چاندی کے ظُرُوف و آلات(یعنی برتن اور اَوزار)رکھنا، جس سے مقصود محض آرائش و زیبائش ہو تو کراہت ہے اور اگر تَکَبُّر وتفاخُر سے ایسا کرتا ہے تو ناجائز ہے۔
(ردالمحتار، ج۹، ص۵۸۵)
غالِباً کراہت کی وجہ یہ ہوگی کہ ایسی چیزیں اگرچِہ ابتداً تَکَبُّر سے نہ ہوں، مگر بالآخر عُموماً ان سے تَکَبُّر پیدا ہوجایا کرتا ہے۔(بہار شریعت،حصّہ ۱۶،ص۵۷) (2) ریشم کا رومال ناک وغیرہ پونچھنے یا وضو کے بعد ہاتھ منہ پونچھنے کے لیے رکھناجائز ہے یعنی جبکہ اس سے پونچھنے کا کام لے، رومال کی طرح اُسے نہ رکھے اور تَکَبُّر بھی مقصود نہ ہو۔
(ردالمحتار، کتاب الحظر و الإباحۃ، ج۹، ص۵۸۷ ۔ ۵۸۸)
(3) ناک ،منہ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا یا وضو کے بعد ہاتھ منہ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا جائز ہے، اسی طرح پسینہ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا جائز ہے اور اگر براہِ تَکَبُّر ہو تو منع ہے۔''
(الفتاوی الہنديۃ، کتاب الکراہیۃ، ج۵، ص۳۳۳)
(4) یہ شخص سواری پر ہے اور اِس کے ساتھ اور لوگ پیدل چل رہے ہیں، اگر محض اپنی شان دکھانے اور تَکَبُّر کے لیے ایسا کرتا ہے تو منع ہے۔''
(الفتاوی