Brailvi Books

تکبر
95 - 98
الہنديۃ، ج۵، ص۳۶۰)
اور ضرورت سے ہو تو حرج نہیں ،مثلاً یہ بوڑھا یا کمزور ہے کہ چل نہ سکے گا یا ساتھ والے کسی طرح اس کے پیدل چلنے کو گوارا ہی نہیں کرتے جیسا کہ بعض مرتبہ علما و مشایخ کے ساتھ دوسرے لوگ خود پیدل چلتے ہیں اور ان کو پیدل چلنے نہیں دیتے، اس میں کراہت نہیں جبکہ اپنے دل کو قابو میں رکھیں اور تَکَبُّر نہ آنے دیں اور محض ان لوگوں کی دلجوئی منظور ہو۔ ''(بہار شریعت،حصّہ ۱۶،ص۲۴۰)

(5)  قدرِ کفایت سے زائد اس لیے کماتا ہے کہ فُقَراء و مساکین کی خبر گیری کرسکے گا یا اپنے قریبی رشتے داروں کی مدد کریگا یہ مستحب ہے اور یہ نفل عبادت سے افضل ہے ،اور اگر اس لیے کماتا ہے کہ مال ودولت زیادہ ہونے سے میری عزّت ووقار میں اضافہ ہو گا، فخر و تَکَبُّر مقصود نہ ہو تو یہ مُباح ہے اور اگر محض مال کی کثرت یا تفاخُر مقصود ہے تو منع ہے۔''
(الفتاوی الہنديۃ''، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس عشر في الکسب، ج۵، ص۳۴۹)
Flag Counter