علاج کے باوُجُود افاقہ نہ ہو تو؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر بھرپور علاج کے بعد بھی افاقہ نہ ہوتو گھبرائیے نہیں بلکہ علاج جاری رکھئے کہ ''دل کو بھی آرام ہوہی جائے گا ۔''کیونکہ اگر ہم نے علاج ترک کر دیا تو گویا خود کو مکمَّل طور پر شیطان کے حوالے کر دیا اور وہ ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گا ۔ لہٰذا ہمیں چاہے کہ تکبُّر سے جان چھُڑانے کی کوشش جاری رکھیں ۔ حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ الوالی (اَ لْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ)ہم جیسوں کو سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں :''اگر تم محسوس کرو کہ شیطان، اللہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگنے کے باوُجُود تمہارا پیچھا نہیں چھوڑتا اور غالب آنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ہمارے مجاہدے ، ہماری قُوّت اور صبر کا امتحان مقصود ہے یعنی اللہ تعالیٰ آزماتا ہے کہ تم شیطان سے مقابلہ اور مُحارَبہ(یعنی جنگ)کرتے ہو یا اس سے مغلوب ہوجاتے ہو ۔''
(منہاج العابدین،العائق الثالث: الشیطٰن ،ص۴۶،ملخصاً)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد