Brailvi Books

تکبر
85 - 98
تکلیف سے بچے فرض ہے اور اس سے زائد جس سے زینت مقصود ہو اور یہ کہ جبکہ اﷲ(عزوجل)نے دیا ہے تو اُس کی نعمت کا اظہار کیا جائے، یہ مستحب ہے ۔خاص موقع پر مَثَلاً جمعہ یا عید کے دن عمدہ کپڑے پہننا مباح ہے۔ اس قسم کے کپڑے روز نہ پہنے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اِترانے لگے اور غریبوں کو جن کے پاس ایسے کپڑے نہیں ہیں نظرِ حقارت سے دیکھے، لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے ۔اور تَکَبُّر کے طور پر جو لباس ہو وہ ممنوع ہے، تَکَبُّر ہے یا نہیں اس کی شَناخْتْ یوں کرے کہ ان کپڑوں کے پہننے سے پہلے اپنی جو حالت پاتا تھا اگر پہننے کے بعد بھی وُہی حالت ہے تو معلوم ہوا کہ ان کپڑوں سے تَکَبُّر پیدا نہیں ہوا۔ اگر وہ حالت اب باقی نہیں رہی تو تَکَبُّر آگیا۔ لہٰذا ایسے کپڑے سے بچے کہ تَکَبُّر بہت بُری صفت ہے۔
 (ردالمحتار، کتاب الحظر و الإباحۃ، فصل في اللبس، ج۹، ص۵۷۹)
             کاش!یہ لباس نرم نہ ہوتا
 حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب تک خلیفہ نہیں بنے تھے آپ کے لئے جُبّہ ایک ہزار دینار میں خریدا جاتاتھامگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے اگر یہ کُھردرا نہ ہوتا (بلکہ خوب ملائم ہوتا)تو کتنا اچھّاتھا لیکن جب تختِ خلافت پر متمکن (مُ۔تَ۔مَکْ۔ کِنْ)ہوئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لئے پانچ درہم کا کپڑا خریدا جاتا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے اگر یہ نرم نہ ہوتا(بلکہ کھُردرا ہوتا)تو کتنا اچھا تھا!آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا :اے امیر المؤمنین! آپ کا وہ عمدہ لباس،اعلیٰ سواری اور بیش قیمت عطر کہاں گیا؟آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: میرا نفس زینت کا شوق رکھنے
Flag Counter